پاکستان آئین کے مطابق چلے گا کسی ایک فرد کی ضد سے نہیں، وزیر اعظم

 

پاکستان آئین کے مطابق چلے گا کسی ایک فرد کی ضد سے نہیں، وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے سیاسی فائدے کے لیے پیٹرول پرسبسڈی دی جب کہ ملک اس کا متحمل نہیں تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چند ہفتے قبل مجھے منتخب کیا گیا جو کہ میرے لیے اعزازکی بات ہے۔ جس کے لیے عوام، نوازشریف اورتمام پارٹیوں کے قائدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ملک کوسنگین حالات سے بچانا مقصود ہے، حکومت سنبھالی توہرشعبہ تباہی کی داستان سنارہاتھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا منصب سنبھالنا کسی کڑے امتحان  سے کم نہیں، ایک شخص اپنے جھوٹے مقاصد کے لیے پاکستان کونقصان پہنچا رہا ہے، پاکستان آئین کے مطابق چلے گا کسی ایک فرد کی ضد سے نہیں۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم نوازشریف کے دورمیں پاکستان ترقی کررہا تھا تواس وقت اس شخص نے دھرنے کا ڈرامہ رچایا اوروہ بھی اس وقت جب برادرملک چین کے صدرسی پیک کے لیے پاکستان کا دورہ کرنے آرہے تھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ آپ نے کیا ہم نے نہیں، ان کی شرائط آپ نے مانی ہم نے نہیں، ملک کو معاشی دلدل میں آپ نے دھکیلا، ہم نے نہیں، آپ نے پاکستان کوتاریخ کے بدترین قرض کے نیچے دفن کردیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ کرپشن آپ کے دورمیں ہوئی، آج معیشت کی سانس بند ہونے کے ذمے داربھی آپ ہیں۔

وزیراعظم نے عوام کے لیے 28 ارب روپے ماہانہ کے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریلیف پیکج بجٹ میں بھی شامل کیا جائے گا۔ اس ریلیف پیکج کے تحت 1 کروڑ 40 لاکھ غریب گھرانوں کو2 ہزارروپے اضافی دیئے جائیں گے، یہ ریلیف بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کے علاوہ دیا جائے گا۔

انہوں نے یوٹیلیٹی اسٹورزکو ہدایت کی کہ دس کلوآٹے کا تھیلا چارسوروپے میں دیا جائے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اہل وطن میری خدمات سے واقف ہیں اورالحداللہ ہمارا مقصد پاکستان کو قائد کا پاکستان بنانا ہے، ہم ملک کو دلدل سے نکالنے کے لیے ہرمشکل فیصلہ کرنے کو تیار ہیں، ہم ہروہ کام کریں گے جس سے ملک ترقی کی راہ پرگامزن ہو۔

وزیراعظم نے سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو مہنگائی عروج پرتھی، ملک تباہی کے دہانے پر تھا۔ روزگاراورمعاشی سرگرمیاں ختم ہوگئی تھی، ہم ڈالر115 روپے پرچھوڑ گئے تھے ان کے دورمیں ڈالر189 پر پہنچ گیا جس سے پاکستان پر قرض کا بوجھ بھی ناقابل برداشت ہوگیا۔

وزیراعظم نے قوم کوبتایا کہ ان کی وجہ سے پاکستان کے قرض میں 20 ہزارارب روپے کا اضافہ ہوا جوپاکستانی تاریخ میں اب تک لیے جانے والے قرض کا اسی فیصد ہے۔ رواں سال 5 ہزارارب روپے کا بجٹ خسارہ ہے۔ صرف اسی سال اتنا خسارہ کیا گیا ہے کہ اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، آپ گواہ ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف کے دورمیں ہم نے10 ہزار900 میگا واٹ بجلی کے پلانٹ لگائے، سڑکوں کا جال بچھایا، مہنگائی کم ترین سطح پرلائے۔  لیکن جب ہم نے دوبارہ حکومت سنبھالی تو 7 ہزار 500 میگا واٹ پاور پلانٹ بند پڑے تھے، جس کا خمیازہ عوام کوبدترین لوڈ شیڈنگ کی شکل میں بھگتنا پڑا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روزہم نے دل پر پتھررکھ کر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جوکہ ناگزیرتھا اوریہ اضافہ کیوں کرنا پڑایہ بات بھی آپ کے علم میں لانا ضروری ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلندترین سطح پر ہیں، لیکن سابق حکومت نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے سبسڈی کا اعلان کردیا جس کی قومی خزانے میں گنجائش نہیں تھی۔ آج کا یہ مشکل فیصلہ معیشت کوموجودہ بحران سے نکالنے کا ایک سبب ہے۔

0/Post a Comment/Comments

براہ کرم کمنٹ باکس میں کوئی سپیم لنک نہ ڈالیں۔

Facebook Comments APPID