قوائدوضوابط

قوائد و ضوابط
ضابطہ اخلاق

پریس سے وابستہ افراد کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بلند ترین پیشہ ورانہ معیارات برقرار رکھیں گے۔ وہ ضوابط جس میں یہ تعارفی نوٹ بھی شامل ہے اور عوامی مفاد کی شقیں بھی جو نیچے بیان کی جارہی ہیں، یہ دونوں ملکر ان اخلاقی اقدار کا تعین کرتے ہیں جن کے تحت کسی کے انفرادی حقوق اور عوام کے جاننے کے حق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کے تحت ایک خود نگہداری کا نظام بنتا ہےاوراس سے (صحافتی) صنعت وابستگی کا اظہار کرتی ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ متقفہ ضابطے کے نہ صرف الفاظ بلکہ اس کی مکمل روح کا بھی احترام کیا جائے۔ اسے نہ تو اتنا تنگ ہونا چاہیے کہ انفرادی حقوق کے تحفظ کے وعدے پر حرف آئے اور نہ ہی اتنا پھیلایا جائے کہ یہ آزادی اظہار کے ساتھ غیر ضروری خلل پیدا کرے یا شائع شدہ مواد کو عوامی مفاد سے دور رکھے۔ یہ ناشر(پبلشر) اور مدیران ( ایڈیٹرز) کی ذمے داری ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق کو پرنٹ اور آن لائن دونوں ورژنز پر لاگو کریں۔ انہیں اس بات کو یقینی بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ پرنٹ اور آن لائن صحافت سے وابستہ افراد یعنی نہ صرف ایڈیٹوریل اسٹاف بلکہ اس سے باہر کے افراد بشمول غیرصحافی بھی اس پر سختی سے عمل پیرا رہیں ۔

درستگی
پریس کے لیے ضروری ہے کہ وہ غلط ، گمراہ کن، اور مسخ شدہ معلومات اور تصاویر شائع نہ کرے۔ اگر غیرمعمولی غلطی، گمراہ کن بیان اور حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا عمل سامنے آئے تو اسے فوری طور پر درست کرکے واضح کیا جائے اور اگر ضروری ہے تو معذرت بھی شائع کی جائے۔ پریس حمایت کرنے میں آزاد ہے لیکن اسے حقائق، بیانات اور نتائج کے درمیان فرق کو واضح رکھنا ہوگا۔ کسی کی ہتکِ عزت کی صورت میں اگر پریس فریق ہے تو ضروری ہے کہ اس کی وضاحت میں درستگی اور غیرجانبدارانہ انداز اختیار کیا جائے اس وقت تک کہ جب تک کہ کوئی متقفہ مفاہمتی معاہدہ سامنے نہیں آجاتا یا جب کوئی معاہدہ سامنے آجائے تو اسے بھی شائع کیا جائے۔
جواب کے مواقع فراہم کرنا
(اشاعتی) غلطیوں کی صورت میں جواب اور وضاحت کے بھر پور مواقع لازمی فراہم کئے جائیں۔

پرائیویسی
صحافی پر لازمی ہے کہ وہ ہر شخص خواہ مرد ہو یا عورت کے نجی اور خاندانی معاملات، گھریلو، صحت اور ڈجیٹل روابط سمیت دیگر رابطوں کا احترام کرے۔ ایڈیٹروں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ بلا اجازت کسی کی ذاتی زندگی میں دخل انداز ہونے کی صورت میں اس کی وضاحت کریں گے۔ بصورتِ دیگر شکایت کنندہ کی جانب سے اس کی ذاتی معلومات عوام میں افشا کرنے پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔ پرائیوٹ مقامات پر کسی شخص کی اجازت کے بنا اس کی تصویر لینا کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔
نوٹ: یہاں پرائیوٹ (ذاتی) اور پبلک (عوامی) مقامات سے مراد وہ جگہیں ہیں جہاں ایک حد تک پرائیوسی کا خیال رکھا جاتا ہو۔

ہراساں کرنا
صحافی کو کسی کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے یا خوفزدہ کرنے کے عمل میں ملوث نہیں ہونا چاہئے۔ اگر کوئی شخص فون کرنے، تصویرلینے اور سوال کرنے سے منع کردے تو صحافی کو بھی رک جانا چاہیے۔ اگر وہ اپنی جگہ یا مکان پر صحافی کو مزید ٹھہرنے سے منع کرے تو اسے باہر آجانا چاہیے اور اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے۔ ایڈیٹرز کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان اصول و ضوابط کو ان افراد پر بھی لاگو کریں جو ان کے لیے کام کررہے ہیں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کسی دوسرے ذرائع سے ایسا مواد تو نہیں لارہے جو (اخلاقی ضوابط) کے تحت ناقابلِ عمل ہے۔

ہسپتال
معلومات جمع کرنے کے لیے ہسپتال کی اہم اور پرائیویٹ جگہوں پر جانے سے قبل صحافی اپنی شناخت ظاہر کریں اور کسی ذمے دار سے اجازت لیں۔ اسی طرح ہسپتال اور اس جیسے اداروں میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی کی پرائیوسی میں دخل اندازی پر بھی یہی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔

جرائم کی رپورٹنگ
جب تک جرم میں براہِ راست تعلق ثابت نہ ہو اس وقت تک کسی جرم میں ملوث ملزم یا مجرم کے عزیزوں، دوستوں اور رشتے داروں کی شناخت ظاہر نہ کی جائے ۔ اگر ممکنہ طور پر کوئی بچہ کسی جرم کا گواہ یا خود شکار ہو اس پر خصوصی توجہ دی جائے لیکن قانونی چارہ جوئی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

خفیہ آلات اور دھوکے سے معلومات حاصل کرنا

پریس کو چاہیے کہ وہ اجازت کے بغیر خفییہ کیمروں، سن گن لینے کے آلات، ذاتی فون کالز کی ریکارڈنگ، ای میلز اور میسجز، یا تصاویر اور دستاویز کا بغیراجازت حصول یا انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات حاصل نہ کرے اور نہ ہی شائع کرے۔ جب تک کوئی اور راہ نہ ہو اور صرف عوامی مفاد ہی مقدم ہو تب ہی دھوکہ دہی یا خفیہ انداز میں معلومات حاصل کی جائیں خواہ وہ ایجنٹوں سے لی جائیں یا درمیان کے افراد سے حاصل ہوں۔

تفریق اور امتیاز

پریس کو کسی مرد و زن کو اس کے مذہب، رنگ و نسل، ذات، کسی ذہنی اور جسمانی مرض کی بنا پر تعصب اور تفریق کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ جب تک رپورٹنگ میں اس کی حقیقی ضرورت نہ ہو اس وقت تک کسی فرد کے مذہب، رنگ و نسل، جنس، ذات اور کسی ذہنی اور جسمانی مرض کو ظاہر کرنے سے گریز کیا جائے۔

معاشی صحافت

یہاں تک کہ اگر قانون اس میں رکاوٹ نہ ڈالے اس وقت بھی صحافی پہلے سے حاصل شدہ معاشی معلومات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال نہ کرے اور نہ ہی یہ معلومات کسی دوسرے کے حوالے کرے۔ اسی طرح ایڈیٹر اور بزنس ایڈیٹر کو بتائے بغیر کاروباری معاملات اور اسٹاک ایکسچینج کے شیئرز کے بارے میں ملنے والی ابتدائی معلومات اور رازوں کو اپنے اہلِ خانہ کو نہ بتائے تاکہ وہ اس سے مالی فوائد حاصل نہ کرسکیں۔ اگر کسی کمپنی کے شیئرز کے بارے میں وہ لکھ چکے ہیں یا لکھنے کا ارادہ کررہے ہیں تو براہِ راست یا کسی دوست اور ایجنٹ کے ذریعے اس کے شیئرز اور سیکیوریٹیز کی خرید و فروخت نہ کی جائے۔

خفیہ ذرائع

صحافیوں کی یہ اخلاقی ذمے داری ہے کہ وہ معلومات کے خفیہ ذرائع کا تحفظ کریں۔
جرائم کے مقدمات میں گواہان کو رقم کی فراہمی
قانونی اور عدالتی کارروائی شروع ہونے کے بعد کسی ایسے شخص کو رقم دی جائے یا نہ رقم کی پیشکش کی جائے جو گواہ ہو یا ممکنہ طور پر گواہ بن سکتا ہو۔ یہ پابندی اس وقت جاری رہنی چاہیے جب تک پولیس مشتبہ شخص کو کسی فردِجرم کے بغیر غیرمشروط طورپر رہا نہ کردے یا ضمانت نہ ہوجائے یا عدالتی کارروائی ختم نہ ہوجائے؛ یا کورٹ میں اعترافِ جرم کرچکا ہو یا نہیں کیا ہو یا عدالت نے اس کا فیصلہ سنادیا ہو۔ اور جہاں عدالتی کارروائی ابھی شروع نہ ہوئی ہو لیکن مستقبل میں اس کے جاری ہونے کا امکان ہو تو ایڈیٹروں کو چاہیے کہ اگر کوئی شخص ممکنہ طور پر گواہ بن سکتا ہو تو اسے اس وقت تک ہرگز رقم نہ دیں اور نہ ہی اس کی پیشکش کریں جب تک معلومات کی عوامی مفاد میں شائع کرنے کی ضرورت پیش نہ آجائے یا رقم دینے کی بہت ذیادہ ضرورت نہ ہو۔ اس معاملے میں بھی یہ خیال رکھا جائے کہ گواہ کو دی جانے والی رقم گواہان کی گواہی اور ثبوت پر پر کسی بھی طرح اثر انداز نہ ہو ۔ کسی بھی طرح رقم کی ادائیگی مقدمے کے نتائج سے مشروط نہیں ہونی چاہیے.

0/Post a Comment/Comments

براہ کرم کمنٹ باکس میں کوئی سپیم لنک نہ ڈالیں۔