بریکنگ نیوز
latest

468x60

اہم خبریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اہم خبریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

آئی ایم ایف پروگرام چند دنوں میں بحال ہوجائے گا، وزیر خزانہ

 

آئی ایم ایف پروگرام چند دنوں میں بحال ہوجائے گا، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام چند دنوں میں بحال ہوجائے گا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے یہ امید ظاہر کی کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا پروگرام ایک آدھ دن میں بحال ہوجائے گا۔

یہ بات انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ امید ہے آئی ایم ایف پروگرام ایک آدھ میں بحال ہو جائے گا، آئی ایم ایف کو ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر کوئی اعتراض نہیں اور اسے 12 لاکھ آمدن پر اِنکم ٹیکس چھوٹ پر بھی اعتراض نہیں ہے، ہماری طرف سے دی گئی 12 لاکھ سالانہ آمدنی پر انکم ٹیکس کی چھوٹ برقرار رہے گی۔

غریب عوام کو ریلیف ملے گا اور امیروں پر ٹیکس لگے گا، مفتاح اسماعیل

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ غریب عوام کو ریلیف ملے گا اور امیروں پر ٹیکس لگے گا، فارما سیوٹیکل کمپنیز کے ریفنڈ آئندہ چار روز سے ادا کرنے شروع کردیں گے، اگر چار دنوں میں ریفنڈ کی سلسلہ شروع نہ ہوسکا تو آئندہ دو ماہ میں پیسے کلئیر کر دیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ فنانس کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ 30 کروڑ روپے پر ٹیکس نہ لگایا جائے اور 30 کروڑروپے سے زائد کی آمدن پر ٹیکس عائد کیا جائے، بات تو ٹھیک ہے مگر اس وقت رقم کی زیادہ ضرورت ہے۔

وزیراعظم ٹیکس بڑھانے پر ناراض ہوجاتے ہیں، وزیر خزانہ

وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف ٹیکس بڑھانے پر ناراض ہوجاتے ہیں اور وہ باربار ٹیکس کم کرنے پر زور دے رہے ہیں، وزیراعظم سے کہتا ہوں کہ اگر ٹیکس نہ بڑھاوٴں تو آمدنی کیسے بڑھے گی۔

ملک میں سالانہ 80 ٹن سونے کی اسمگلنگ کا انکشاف

مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا کہ گزشتہ مالی سال صرف 14 سے پندرہ کلوگرام سونا قانونی طریقے سے پاکستان آیا جب کہ ہر سال 80 ٹن سونا ملک میں اسمگلنگ سے آ رہا ہے، جیولرز ایسے بھی ہیں جن کی روزانہ کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی ہوتی ہے، جب دکاندار سے پوچھا تو کہا روزانہ چار ہزار کی سیلز ہوتی ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس

قبل ازیں سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، سابق وزیر خزانہ اور رکن کمیٹی شوکت ترین اور دیگر نے شرکت کی۔

حکومت کو مشکل فیصلوں سے واپس نہیں ہٹنا چاہیے، شوکت ترین

اجلاس میں کمیٹی کے رکن شوکت ترین نے کہا کہ ہم نے فارماسیوٹیکل کمپنیز کے لیے سیلز ٹیکس کو دستاویزی بنانے کے لیے کام کیا، ادویات سازی کے ساتھ وہی فیکٹری جوسز بنا رہی ہے، ادویات ساز میک اپ کا سامان بنارہے ہیں اور سیلز ٹیکس نہیں دیتے، اگر انہیں 17 کی بجائے کم سیلز ٹیکس لگائیں گے تو یہ ادا ہی نہیں کریں گے۔

شوکت ترین نے کہا کہ ایف بی آر نے ری فنڈ کا نظام خودکار بنایا ہے، اگر فارما والوں کا ری فنڈ رک گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی ڈاکیو منٹیشن پوری نہیں، حکومت کو اس طرح کے مشکل فیصلوں سے واپس نہیں ہٹنا چاہیے۔

پاکستان آئین کے مطابق چلے گا کسی ایک فرد کی ضد سے نہیں، وزیر اعظم

 

پاکستان آئین کے مطابق چلے گا کسی ایک فرد کی ضد سے نہیں، وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے سیاسی فائدے کے لیے پیٹرول پرسبسڈی دی جب کہ ملک اس کا متحمل نہیں تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چند ہفتے قبل مجھے منتخب کیا گیا جو کہ میرے لیے اعزازکی بات ہے۔ جس کے لیے عوام، نوازشریف اورتمام پارٹیوں کے قائدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ملک کوسنگین حالات سے بچانا مقصود ہے، حکومت سنبھالی توہرشعبہ تباہی کی داستان سنارہاتھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا منصب سنبھالنا کسی کڑے امتحان  سے کم نہیں، ایک شخص اپنے جھوٹے مقاصد کے لیے پاکستان کونقصان پہنچا رہا ہے، پاکستان آئین کے مطابق چلے گا کسی ایک فرد کی ضد سے نہیں۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم نوازشریف کے دورمیں پاکستان ترقی کررہا تھا تواس وقت اس شخص نے دھرنے کا ڈرامہ رچایا اوروہ بھی اس وقت جب برادرملک چین کے صدرسی پیک کے لیے پاکستان کا دورہ کرنے آرہے تھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ آپ نے کیا ہم نے نہیں، ان کی شرائط آپ نے مانی ہم نے نہیں، ملک کو معاشی دلدل میں آپ نے دھکیلا، ہم نے نہیں، آپ نے پاکستان کوتاریخ کے بدترین قرض کے نیچے دفن کردیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ کرپشن آپ کے دورمیں ہوئی، آج معیشت کی سانس بند ہونے کے ذمے داربھی آپ ہیں۔

وزیراعظم نے عوام کے لیے 28 ارب روپے ماہانہ کے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریلیف پیکج بجٹ میں بھی شامل کیا جائے گا۔ اس ریلیف پیکج کے تحت 1 کروڑ 40 لاکھ غریب گھرانوں کو2 ہزارروپے اضافی دیئے جائیں گے، یہ ریلیف بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کے علاوہ دیا جائے گا۔

انہوں نے یوٹیلیٹی اسٹورزکو ہدایت کی کہ دس کلوآٹے کا تھیلا چارسوروپے میں دیا جائے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اہل وطن میری خدمات سے واقف ہیں اورالحداللہ ہمارا مقصد پاکستان کو قائد کا پاکستان بنانا ہے، ہم ملک کو دلدل سے نکالنے کے لیے ہرمشکل فیصلہ کرنے کو تیار ہیں، ہم ہروہ کام کریں گے جس سے ملک ترقی کی راہ پرگامزن ہو۔

وزیراعظم نے سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو مہنگائی عروج پرتھی، ملک تباہی کے دہانے پر تھا۔ روزگاراورمعاشی سرگرمیاں ختم ہوگئی تھی، ہم ڈالر115 روپے پرچھوڑ گئے تھے ان کے دورمیں ڈالر189 پر پہنچ گیا جس سے پاکستان پر قرض کا بوجھ بھی ناقابل برداشت ہوگیا۔

وزیراعظم نے قوم کوبتایا کہ ان کی وجہ سے پاکستان کے قرض میں 20 ہزارارب روپے کا اضافہ ہوا جوپاکستانی تاریخ میں اب تک لیے جانے والے قرض کا اسی فیصد ہے۔ رواں سال 5 ہزارارب روپے کا بجٹ خسارہ ہے۔ صرف اسی سال اتنا خسارہ کیا گیا ہے کہ اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، آپ گواہ ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف کے دورمیں ہم نے10 ہزار900 میگا واٹ بجلی کے پلانٹ لگائے، سڑکوں کا جال بچھایا، مہنگائی کم ترین سطح پرلائے۔  لیکن جب ہم نے دوبارہ حکومت سنبھالی تو 7 ہزار 500 میگا واٹ پاور پلانٹ بند پڑے تھے، جس کا خمیازہ عوام کوبدترین لوڈ شیڈنگ کی شکل میں بھگتنا پڑا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روزہم نے دل پر پتھررکھ کر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جوکہ ناگزیرتھا اوریہ اضافہ کیوں کرنا پڑایہ بات بھی آپ کے علم میں لانا ضروری ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلندترین سطح پر ہیں، لیکن سابق حکومت نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے سبسڈی کا اعلان کردیا جس کی قومی خزانے میں گنجائش نہیں تھی۔ آج کا یہ مشکل فیصلہ معیشت کوموجودہ بحران سے نکالنے کا ایک سبب ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کو آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت

 

وزیراعظم شہباز شریف کو آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت
تفصیلات کے مطابق اسپیشل کورٹ سنٹرل لاہورنے وزیراعظم شہبازشریف اوروزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز سمیت دیگر کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کا تحریری حکم جاری کیا۔


اسپیشل جج سنٹرل اعجاز حسن اعوان نے 4 صفحات کا تحریری حکم جاری کیا جبکہ عدالت نے اسپیشل پراسیکیوٹراورشہبازشریف کے وکیل کو 21 مئی کو ضمانت اور چالان پر دلائل کیلئے طلب کر لیا۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ اسپیشل پراسیکیوٹرنے شہباز شریف کی میڈیکل چیک اپ کیلئے وقت لینے کی ای ٹکٹ دیکھنے کے بعد مخالفت نہیں کی۔


تحریری حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ شہباز شریف کے پیش نہ ہونے کی دلیل دی گئی کی ریاست کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے انہیں یو اے ای میں تعزیت کیلئے جانا ہے۔ اسپیشل پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کے دلائل کا جواب دینے اور تیاری کیلئے مہلت مانگی۔


چار صفحات پر مشتمل تحریی حکم نامے میں تحریری حکم میں کہا گیا کہ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے بھی دوسری عدالت میں کیس کے سبب مزید سماعت ملتوی کرنےکی استدعا کی۔ شہبازشریف اہم معاملات کیلئے بیرون ملک گئے جن کی واپسی 13 مئی کو طے تھی۔


عدالتی حکم نامے میں لکھا گیا کہ امجد پرویزایڈووکیٹ کے مطابق گزشتہ حکومت نے شہباز شریف کو طبی معانئے کیلئے بیرون ملک نہیں جانے دیا تھا۔ امجد پرویزایڈووکیٹ کے مطابق شہباز شریف نے 13 مئی کو ڈاکٹر سے وقت لینے کی ہر ممکن کوشش کی۔

حکومت کا سی پیک اتھارٹی کو بند کرنے کا فیصلہ

حکومت کا سی پیک اتھارٹی کو بند کرنے کا فیصلہ

 حکومت نے سی پیک اتھارٹ کو غیر فعال قرار دیتے ہوئے اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ جلد ہی وزیر اعظم شہاز شریف کو ایک سمری ارسال کی جارہی ہے کہ وہ سی پیک اتھارٹی کو ختم کردیں کیونکہ یہ ادارہ ایک بوجھ بن گیا ہے جس پر بے تحاشا وسائل ضائع کیے جارہے ہیں جبکہ سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد سست روی کا شکار ہے۔


احسن اقبال کو بدھ کے روز اس بارے میں پہلی بریفنگ دی گئی جس میں انھیں ادارے کی خراب کارکردگی کا بتایا گیا۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سی پیک پاور منصوبوں میں سے 37 فیصد یا 1980 میگاواٹ سسٹم میں اس وقت شامل نہیں ہے کیونکہ چینی سرمایہ کاروں کو ان کے واجبات اب تک ادا نہیں کیے گئے ہیں۔ انھیں مزید بتایا گیا کہ چین کی دس آئی پی پیز کے کل واجبات کا حجم 300 ارب روپے تک جاپہنچا ہے جن میں سے 270 واجب الادا ہیں۔

سی پیک منصوبے سے وابستہ ایک سینئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایکسپریس کو بتایا کہ حبکو، ساہیوال اور پورٹ قاسم پر واقع کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس نے اپنے دو میں سے ایک پاور یونٹ کو بند کر رکھا ہے کیونکہ انہیں فیول کی کمی کا سامنا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ وزیر خزانہ شوکت ترین کے گوش گزار کیا گیا تھا تاہم انہوں نے محض 50 ارب روپے کی جزوی ادائیگی کی منظوری دی تھی۔ اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی نے سی پیک کے منصوبوں پر کام کی سست رفتاری پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ ہر دو ہفتے بعد کام کا جائزہ لیں۔


احسن اقبال کی زیر صدارت سی پیک سے متعلق منصوبوں پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس میں انھوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق منصوبوں پر سست پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سی پیک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر قمر سرور عباسی نے وزیر کو ان منصوبوں پر عملدرآمد میں اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ دی۔


وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ سی پی ای سی منصوبوں پر تاخیر کتنی افسوس ناک ہے جو خطے کے لیے گیم چینجر ہے۔ انہوں نے متعلقہ عہدے دار کو ہدایت دی کہ وہ پندرہ دن میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے میٹنگ کریں، پورٹ قاسم، اسلام آباد اور میرپور کے صنعتی زونز پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جو کہ افسوس ناک ہے۔


انہوں نے کہا کہ جب آپ اپنے سرمایہ کاروں کی قدر نہیں کرتے تو وہ سرمایہ کاری کے لیے کیوں پاکستان آئیں گے، منصوبوں میں تاخیر کی وجہ سے چینی سرمایہ کار دور چلے گئے، ان منصوبوں پر مزید تاخیر قابل قبول نہیں ہوگی جبکہ عہدے داروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ کام کو تیز سے تیز کریں۔


وفاقی وزیر نے متعلقہ عہدے دار کو اکنامک زونزپر ایک علیحدہ میٹنگ کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ اسے ہموار کیا جاسکے۔ وفاقی وزیر نے مصنوعی ذہانت، اوریکل، بگ ڈیٹا اور دیگر شعبوں جیسی مختلف فائلوں میں 100,000 سے زیادہ نوجوان طلباء کو تربیت دینے کے حکومتی منصوبوں کو بھی شامل کرنے کی ہدایت دی۔


ملاقات کے دوران انھوں نے ایچ ای سی کو صنعت کے ساتھ بڑے پیمانے پر مشغول ہونے کی ہدایت بھی کی۔

نومنتخب وزیراعظم کا کم سے کم اجرت 25 ہزار روپے کرنے کا اعلان

 

نومنتخب وزیراعظم کا کم سے کم اجرت 25 ہزار روپے کرنے کا اعلان
پاکستان کے 23ویں وزیرعظم منتخب ہونے والے شہباز شریف نے اپنے پہلے ہی خطاب میں عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے مزدور کی کم سے کم اجرت 25 ہزار روپے کرنے کا اعلان کردیا۔


مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف 174 ووٹوں سے پاکستان کے 23ویں صدر منتخب ہوئے جس کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ گزشتہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی مہنگائی کا زور کسی حد تک کم کرنے کیلئے عوام کو فوری ریلیف دے رہے ہیں۔

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام چیزوں کا اطلاق یکم اپریل 2022 سے فوری طور پر ہوجائے گا۔


دوسری جانب نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ بھی یکم اپریل سے ایک لاکھ تک تنخواہ والے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی 10 فیصد اضافہ کریں۔


واضح رہے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے گزشتہ سال کے وفاقی بجٹ میں مزدور کی کم سے کم ماہانہ تنخواہ 20 ہزار روپے مقرر کی تھی جب کہ سندھ واحد صوبہ تھا جس نے گزشتہ بجٹ میں ہی کم سے کم تنخواہ 25 ہزار روپے کردی تھی۔

عمران خان کا عوام کا سڑکوں پر آنے پر شکریہ

عمران خان کا عوام کا سڑکوں پر آنے پر شکریہ

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عوام کا سڑکوں پر آنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں پاکستانی سڑکوں پر امڈ آئے ہیں۔



عمران خان نے کہا کہ ضمانتوں پر رہا ہونے والوں کو اقتدار میں لانےکی کوشش کی گئی، بیرون ملک پاکستانیوں نے میر صادق اور میرجعفروں کو مسترد کردیا ہے۔


سابق وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ مقامی میرجعفروں نے امریکی حمایت سے حکومت تبدیل کی لیکن اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں نے ان کو مسترد کردیا ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے اعلان پر ملک کے مختلف شہروں میں تحریک انصاف کے کارکنان احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔


پی ٹی آئی کے کارکنوں نے کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، چلاس، کوہاٹ، چیچہ وطنی، جہانیاں، میانوالی، بہاولنگر، منڈی بہاء الدین، سکھر، کندھ کوٹ، خیرپور اور تھر پارکر میں عمران خان کی اپیل پر احتجاج کیا۔

کراچی میں پی ٹی آئی کارکنوں نے ڈالمیا روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا، جس کے باعث ٹریفک پولیس گاڑیوں کو راشد منہاس روڈ سے نیپا چورنگی بھیجنے لگی۔


واضح رہے عمران خان 3 سال 8 ماہ وزیر اعظم رہنے کے بعد گزشتہ رات تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اپنے عہدے سے ہٹادیئے گئے ہیں اور یوں وہ پاکستان کی تاریخ میں تحریک عدم اعتماد کے ذرریعے گھر جانے والے پہلے وزیراعظم بن گئے ہیں۔


گزشتہ روز تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے سے انکار کرکے اسپیکر اسد قیصر مستعفی ہوئے اور ایوان ایاز صادق کے حوالے کرگئے جس کے بعد ان کی صدارت میں اجلاس کی کارروائی آگے بڑھائی گئی۔


اس دوران 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ تحریک عدم اعتماد کے دوران پی ٹی آئی کے منحرف ارکان نے اپنے ووٹ کاسٹ نہیں کیے جب کہ حکومتی ارکان قومی اسمبلی ایوان میں موجود نہیں تھے لہٰذا ان کے ووٹ بھی کاسٹ نہیں ہوئے اور یوں تحریک عدم اعتماد 0-174 سے کامیاب قرار پائی۔



تحریک انصاف نے اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی

 

تحریک انصاف نے اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی

لاہور: تحریک انصاف نے اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔ 

ایکسپریس نیوزکے مطابق پنجاب میں ایک نیا سیاسی بحران سامنے آگیا ہے، گزشتہ روز سپریم کورٹ نے  پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے ریمارکس دیئے تھے، جس پر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری نے رات گئے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا اور اجلاس طلب کرلیا، تاہم ترجمان اسمبلی زین علی نے طلب کئے گئے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس آج نہیں 16 اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔

اس کے فوری بعد ہی تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عمدم اعتماد جمع کرادی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سے قبل وزیر اعظم سے منظوری حاصل کی گئی، اور عدم اعتماد میاں محمود الرشید اور دیگر ارکان اسمبلی کے دستخطوں سے جمع کروائی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک آج صبح سیکرٹری اسمبلی کے آفس میں جمع کرائی گئی، عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سردار دوست محمد مزاری اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے مجاز نہیں رہے۔

تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے تحریک انصاف سے راستے جدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ دوست مزاری گزشتہ روز وزیر اعظم کی طرف سے بلایا جانے والے اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے، جب کہ وہ  پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے وقت گورنر ہاوس سے چند قدم دور اپنے گھر میں ہی تھے۔

ذرائع کا کنہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے حکومتی اتحاد مشکلات کا شکار ہوگیا، اور ترین، علیم خاں، کھوکھر، چھینہ کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کا بھی گروپ سامنے آگیا ہے، اور دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سے پی ٹی آئی کے ارکان ناراض ہوگئے ہیں اور پی ٹی کے 12 سے 15 ارکان کا مزاری گروہ بنانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری نے پی ٹی آئی امیدوار کو سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور موجودہ صورتحال پر اپنے قریبی ساتھیوں سے صلاح مشورہ شروع کردیئے ہیں، انہیں تحریک انصاف کے 12 سے 15 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے، اور اب دوست محمد مزاری کا اپنے گروپ کے ہمراہ اپوزیشن امیدوار کی حمایت کا قوی امکان ہے۔

اسپیکر رولنگ کیس؛ جو ہوا اگر اسے ہونے دیا گیا تو بہت منفی اثرات ہوسکتے ہیں، چیف جسٹس

 

اسپیکر رولنگ کیس؛ جو ہوا اگر اسے ہونے دیا گیا تو بہت منفی اثرات ہوسکتے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے اسپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

وکیل ن لیگ اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر نے آج شام اجلاس بلایا ہے، لیکن اسمبلی کا عملہ ڈپٹی اسپیکر کا حکم نہیں مان رہا، لاہور میں حالات کشیدہ ہیں، لگتا ہے آج بھی وزیراعلی کا الیکشن نہیں ہو سکے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی طور پر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں، عدالت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ فیصلہ نہیں کر رہی، یک طرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟۔

تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا رولنگ میں دیا گیا حوالہ نظرانداز کیا جائے اور عدالت ان کے حق میں فوری مختصر حکمنامہ جاری کرے، کیس میں جس برطانوی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا وہ کیس میں لاگو نہیں ہوتا، کیا سندھ ہاؤس اور آواری ہوٹل لاہور میں جو کچھ ہوا اسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی کونسل اجلاس کے منٹس کدھر ہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ میں بظاہر الزامات ہیں کوئی فائنڈنگ نہیں، کیا اسپیکر حقائق سامنے لائے بغیر اس طرح کی رولنگ دے سکتا ہے؟ یہی آئینی نقطہ ہے جس پر عدالت نے فیصلہ دینا ہے، کیا اسپیکر آرٹیکل 95 سے باہر جا کر ایسی رولنگ سے سکتا ہے جو ایجنڈے پر نہیں، ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ میں نتیجہ اخذ کیا ہے، ڈپٹی اسپیکر نے کس مواد پر اختیار استعمال کیا، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا اسپیکر کو اختیار ہے کہ وہ ہاؤس میں ایجنڈے سے ہٹ کر کسی facts پر جا سکے، اگر ایسا کوئی مٹیریل موجود ہے؟ ایک آئینی طریقہ ہے جس کو بالکل سائیڈ لائن کر دیا جائے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ آپ نے یہ بھی بتانا ہے، فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی۔

بابر اعوان نے بتایا کہ سفارتکار نے دوسرے ملک کی نیشنل سکیورٹی کونسل کا پیغام تین افراد کو پہنچایا، ایمبیسی کے ذریعے ہیڈ آف مشن، ڈپٹی ہیڈ آف مشن اور دفاع اتاشی کو پیغام دیا گیا، ہمارے سفارتکاروں کی بیرون ملک ملاقات کے بعد سات مارچ کو مراسلہ آیا، ہمارا فارن آفس اس پر نظر ڈالتا ہے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ فارن پالیسی کا معاملہ ہے، میں چاہتا ہوں کہ یہ بات ایک پولیٹیکل پارٹی کی جانب سے نہ آئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا نکتہ بھی صحیح ہے، ہم بھی فارن پالیسی کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے۔

نیوی سیلنگ کلب سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا

 



سابق نیول چیف ایڈمرل ریٹائرڈ ظفر محمود عباسی نے نیوی سیلنگ کلب سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے  نیوی سیلنگ کلب گرانے اورسابق نیول چیف کےخلاف فوجداری کارروائی کا فیصلہ چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں ایڈمرل ریٹائرڈ ظفرمحمود عباسی کی جانب سے اشتر اوصاف ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

اشتر اوصاف نے سنگل بینچ کا 7 جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی جب کہ اپیل کنندہ نے کہا کہ جس درخواست پر فیصلہ سنایا گیا وہ قابل سماعت ہی نہیں تھی، عدالت نے پٹیشنر کو وہ ریلیف دیا جو پٹیشن میں مانگا ہی نہیں گیا تھا، اپیل کنندہ کے خلاف پٹیشن میں فوجداری کارروائی کی استدعا ہی نہیں کی گئی تھی۔

اشتر اوصاف نے دلائل میں کہا کہ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ سابق نیول چیف نے غیرقانونی عمارت کا افتتاح کیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ انہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

اشتر اوصاف کے دلائل پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہرچیز سرکار کی ہوتی ہے جس کا استعمال متعلقہ ڈپارٹمنٹ کرتا ہے، عدالتوں کی متعلقہ منسٹری وزارت قانون ہے، وہی عدالتوں کیلئے بلڈنگ لیتے ہیں، آرمڈ فورسزکی متعلقہ منسٹری وزارت دفاع بنتی ہے، نیول فارمزکیلئے زمین کس نے خریدی؟ انتقال کس کے نام ہوا؟ نیول فارمز کی زمین خریدنے کا مقصد کیا تھا؟ پوچھ کربتائیں کہ سیکرٹری کابینہ نے عدالتی حکم پرعملدرآمد کیا ہے یا نہیں؟

اشتر اوصاف نے کہا کہ پرسوں تک سی ڈی اے عدالتی فیصلے پر ایکشن نہ لے لے، اس پر جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آپ کو لگتا ہے کہ ظفرمحمود عباسی کو گرفتار کرلیا جائے گا؟  اس پر جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل موجود ہیں، ان کو بلا کرپوچھ لیتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے پٹیشنرکے وکیل کو متعلقہ ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنےکی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 19 جنوری تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 7 جنوری کو اپنے فیصلے میں راول جھیل کے کنارے بنے نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے گرانے کا حکم دیا تھا۔

سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے دی گئی ڈیڈلائن کا آخری دن، تحقیقات مکمل نہ ہوسکی

 



سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے دی گئی ڈیڈلائن کا آخری دن ہے لیکن اب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوسکی۔

ذرائع تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق تحقیقات مکمل نا ہونے پر کمیٹی نے مزید 5 روز کا وقت مانگ لیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی نامکمل رپورٹ کسی صورت جمع نہیں کروائی جائے گی۔

ذرائع تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق پنجاب، خیبرپختونخوا اور وفاق سے صرف چند افسران اور حکام کے بیانات ریکارڈ ہوسکے ہیں۔

کمیٹی ذرائع کا کہنا تھاکہ پنجاب سیکرٹریٹ اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ معاملے کو انتہائی غیرسنجیدہ لیتی رہی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے اطلاعات حسان خاور کا کہنا ہے کہ سانحہ مری پر تحقیقاتی رپورٹ اپنے آخری مراحل میں ہے،  ایک دو دن میں مکمل کرکے وزیراعلیٰ کو پیش کردی جائے گی۔

اُدھر مری انتظامیہ کی جانب سے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوگیا ہے۔

بانسرہ گلی، بھوربن روڈ پرعمارتیں سیل اورگرانے کا عمل جاری ہے۔

خیال رہےکہ 7 اور 8 جنوری کی رات کو مری میں برفانی طوفان اور رش کے باعث 23 افراد اپنی گاڑیوں میں انتقال کرگئے تھے، انتقال کرجانے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے۔

واقعےکے بعد پنجاب حکومت نے سانحہ مری کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔