بریکنگ نیوز
latest

468x60

سائنس و ٹیکنالوجی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سائنس و ٹیکنالوجی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

واٹس ایپ نے صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کردی

 

واٹس ایپ نے صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کردی

سان فرانسسكو: پیغام رسانی کی معروف موبائل ایپلی کیشن نے صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے ملٹی ڈیوائس فیچر کی سہولت سب کو فراہم کردی۔

واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں جنہیں سہولیات فراہم کرنے اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے کمپنی کی جانب سے آئے روز نت نئی سہولیات یا فیچرز فراہم کیے جاتے ہیں۔

پیغام رسانی کی اپلیکیشن کے مخصوص بیٹا ورژن صارفین کے لیے کمپنی نے ملٹی ڈیوائس فیچر متعارف کرایا جس کے تحت وہ ایک ہی اکاؤنٹ کو موبائل، ویب، کمپیوٹر، پر استعمال کرسکتے تھے۔

اب واٹس ایپ نے تمام صارفین کو ملٹی ڈیوائس فیچر کی سہولت فراہم کردی ہے، جس کے تحت وہ مختلف ڈیوائسز اور ویب ، ڈیسک ٹاپ پر بیک وقت ایک ہی اکاؤنٹ استعمال کرسکتے ہیں۔

صارفین مرکزی یعنی جس ڈیوائس میں اکاؤنٹ بنایا گیا ہو کے علاوہ 4 مختلف ڈیوائسز پر انٹرنیٹ کے بغیر بھی موبائل استعمال کرسکیں گے۔


واٹس ایپ کے صارفین گوگل پلے اسٹور سے واٹس ایپ کی نئی اپ ڈیٹ حاصل کر کے اس سہولت سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ ایک بار بار کوڈ اسکین کرنے کے بعد مرکزی ڈیوائس پر اُن کے پاس مختلف ڈیوائسز میں اکاؤنٹ جڑنے کا پیغام ظاہر ہوگا۔


ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ مارچ کے آخر یا اپریل کے وسط تک صارفین کو یہ سہولت فراہم کردی جائے گی۔

نظامِ شمسی سے باہر دریافت شدہ سیاروں کی تعداد 5000 سے زیادہ ہوگئی

 

نظامِ شمسی سے باہر دریافت شدہ سیاروں کی تعداد 5000 سے زیادہ ہوگئی

پیساڈینا، کیلیفورنیا: ہماری وسیع و عریض کائنات میں ان گنت کہکشائیں، اربوں سورج اور دیگر حیرت انگیز اجسام موجود ہیں۔ نظامِ شمسی سے باہر ایسے کئی سیارے بھی موجود ہیں جنہیں ایگزوپلانیٹ کہا جاتا ہے اور اب ان کی گنتی 5000 تک جاپہنچی ہے۔

لیکن اب بھی کروڑوں اربوں ایسے سیارے موجود ہیں جو شاید ہماری زمین جیسے بھی ہوسکتے ہیں اور ان کی دریافت اور شناخت کا کام ابھی باقی ہے۔

اس ہفتے ماہرینِ فلکیات نے اعلان کیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل کیپلر خلائی دوربین سے دیکھے گئے 65 اجسام کو سیاروں کا درجہ دیا گیا  ہے جس کے بعد ان کی تعداد 5005 تک پہنچ چکی ہے جو ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ان میں پانچ سیاروں کا ایک مجموعہ بھی ہے جو کے ٹو 384 نامی سرخ بونے ستارے کے گرد گھوم رہے ہیں۔

اب انسٹا گرام فیڈ پوسٹ میں مصنوعات کو ٹیگ کرنا ممکن

 

اب انسٹا گرام فیڈ پوسٹ میں مصنوعات کو ٹیگ کرنا ممکن

یبلو پارک: انسٹاگرام میں اب بعض صارفین فیڈ پوسٹ میں دکھائی دینے والی مصنوعات کو ٹیگ کرسکتے ہیں جہاں دیکھنے والے فالوورز انہیں آن لائن خرید سکیں گے، اسے خالص ای کامرس کی جانب ایک قدم قرار دیا جائے گا۔

فی الحال امریکی انسٹاگرامر کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس کا دوسرا مقصد فیشن اور اسٹائل کے ضمن میں مشہور مصنوعات، میک اپ اور دیگر پراڈکٹس کو فروغ دینا ہے۔ اسے ایمیزون ایفلیئٹ مارکیٹ کی طرح ہی سمجھا جاسکتا ہے جس میں حوالہ جاتی انداز میں مصنوعات کی تشہیر کرکے انسٹا گرام اکاؤنٹ سے رقم بھی کمائی جاسکتی ہے۔

جس طرح چھوٹے کاروباری افراد فیس بک پر تجارت کر رہے ہیں عین اسی طرح انسٹا گرام پر بھی کاروبار کیا جاسکے گا کیونکہ اس اختراع کا تعلق صارفین سے کم اور کاروبار سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ آپ کوئی بھی پوسٹ دیکھ کر انسٹاگرام کے دوستوں کو ٹیگ بھی کرسکیں گے لیکن آخرکار بڑے برانڈز اور کمپنیاں بھی اسے اپنائیں گی۔

دونوں قطبین پر تشویش ناک ہیٹ ویو سے ماہرین پریشان

 

دونوں قطبین پر تشویش ناک ہیٹ ویو سے ماہرین پریشان

کولاراڈو: قطبین کو زمین کے پیندے بھی کہا جاتا ہے اور اب بدلتے ہوئے موسم کے سبب وہاں پہلی بار حرارت کی خوف ناک لہر (ہیٹ ویو) دیکھی گئی ہے۔ یعنی آرکٹک کا درجہ حرارت معمول سے 30 درجے اور انٹارکٹک پر 40 درجے سینٹی گریڈ سے زائد نوٹ کیا گیا ہے جسے ماہرین نے شدید تشویش ناک قرار دیا ہے۔

جمعپ کے روز 3000 میٹر سے زائد بلند  کونکورڈیا نامی ایک موسمیاتی ٹاور نے درجہ حرارت منفی 12 درجے سینٹی گریڈ دکھایا جبکہ اس سے بھی بلند ووسٹوک موسمیاتی اسٹیشن نے منفی 17 اعشاریہ 7 درجے سینٹی گریڈ درجہ حرارت ظاہر کیا۔ تیسری جانب ساحلی اسٹیشن ٹیرا نووا کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے اوپر تھا یونی 7 درجے سینٹی گریڈ تھا۔

ادھر کولاراڈو میں واقع نیشنل سنو اینڈ آئس سینٹر نے بھی کہا ہے کہ قطب شمالی کا درجہ حرارت معمول سے 50 درجے (فیرن ہائٹ) اوپر تھا۔ پھر مارچ کے وسط میں اتنی گرمی ایک خوفناک مظہر ہے اور زمین کے مخالف کناروں پر ہونے کی وجہ سے وہاں موسم بھی ایک دوسرے کے مخالف ہیں یعنی ایک جگہ موسمِ گرما ہے تو دوسری جگہ موسمِ سرما کا راج ہے۔ لیکن اس کیفیت میں دونوں جگہ ہیٹ ویو یکساں تباہی مچارہی ہے اور دونوں علاقے ایک ہی وقت میں یکساں رفتار سے پگھل رہے ہیں۔

سائنسدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح کی صورتحال اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہے۔ جامعہ وسکانسن کے موسمیاتی ماہر میتھیو لزارا کے مطابق یہ اچھی علامات نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت انٹارکٹیکا کا درجہ حرارت منفی 43 درجے سینٹی گریڈ ہونا چاہیے تھا جو منفی دس درجے سینٹی گریڈ نوٹ کیا گیا ہے۔

تاہم ماہرین نے اسے ایک ہی مرتبہ ہونے والا واقعہ قراردیا ہے۔ انہیں شک ہے کہ یہ کلائمٹ چینج نہیں لیکن اگر بار بار ایسا ہوتا ہے تو یہ بہت ہول ناک بات ہوگی۔

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس عجیب واقعے پر غور کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی وجوہ کا اندازہ لگایا جاسکے۔ سائنسدانوں نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔