بریکنگ نیوز
latest

468x60

پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

سپریم کورٹ کا ہائی پروفائل مقدمات میں تقرریاں تبادلے روکنے کا حکم

 


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ہائی پروفائل مقدمات میں تبادلے اور تقرریاں روکنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجر بینچ نے حکومتی شخصیات کی جانب سےتحقیقات میں مداخلت پرازخودنوٹس کی سماعت کی۔

عدالت نے حکم دیا کہ ہائی پروفائل مقدمات میں پراسیکیوشن تحقیقات برانچ کے اندر تاحکم ثانی ٹرانسفر پوسٹنگ نہیں کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے نیب اور ایف آئی اے کو بھی تاحکم ثانی کوئی بھی مقدمہ عدالتوں سے واپس لینے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ آرٹیکل 25 10/A اور 4 کی عملداری ہونی چاہیے، کرمنل جسٹس سسٹم کی شفافیت اور ساکھ کو برقرار رکھا جائے، ہماری کارروائی کا مقصد صرف اسی حد تک ہے۔

عدالت نے چیرمین نیب،ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی کہ مقدمات میں مداخلت کیوں ہورہی ہے۔ عدالت نے سربراہ پراسیکیویشن ایف آئی اے ، لیگل ڈائریکٹر ایف آئی اے، تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے  تحریری جوابات جمع کرانے کا حکم دیا اور سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔

دوران سماعت عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ لاہور کی عدالت میں ایف آئی اے پراسیکیوٹر کو تبدیل کردیا گیا، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈاکٹر رضوان کو بھی تبدیل کردیا گیا، انہیں بعد میں ہارٹ اٹیک ہوا، ان معاملات پر تشویش ہے، ڈی جی ایف آئی اے نے ایک تفتیشی افسر کو پیش ہونے سے منع کیا، پراسیکیوشن برانچ اور استغاثہ کے عمل میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے، اخبار کے تراشوں کے مطابق ای سی ایل سے نام نکلنے اور ای سی ایل رولز میں تبدیلی سے 3 ہزار افراد کا فائدہ ہوا، ان معاملات کو جاننا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایسی خبریں ایک ماہ سے دیکھ اور پڑھ رہے ہیں، اس سے قانون کی حکمرانی پر اثر پڑ رہا ہے، امن اور اعتماد کو معاشرے میں برقرار رکھنا آئین کے تحت ہماری ذمہ داری ہے، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا ہے، یہ کاروائی کسی کو ملزم ٹھہرانے یا کسی کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں ہے، یہ کارروائی فوجداری نظام اور قانون کی حکمرانی کو بچانے کے لیے ہے، امید کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت ان اقدامات کی وضاحت کرنے میں تعاون کرے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خبروں کے مطابق نیب کا فوجداری ریکارڈ غائب ہونا شروع ہو گیا، چار نیب مقدمات میں ریکارڈ گم ہونے کی خبر ہے، اٹارنی جنرل ان معاملات میں ہماری مدد کریں، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بھی مداخلت پر بیان دیا ہے، ہماری تشویش صرف انصاف کی فراہمی کیلئے ہے، ہم تحقیقاتی عمل کا وقار، عزت اور تکریم برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ہم یہ پوائنٹ اسکورنگ کیلئے نہیں کر رہے، صرف انصاف کی فراہمی چاہتے ہیں جو اندراج مقدمہ سے فیصلہ پر ختم ہوتی ہے، مئی سے یہ اقدامات ہونا شروع ہوئے ہم ان اقدامات کو دیکھتے رہے، ہم خاموش تماشائی بن کر یہ چیزیں نوٹ کرتے رہے، انصاف کے نظام سے کوئی بھی کھلواڑ نہ کرے، مقدمات کے ملزمان کو ابھی مجرم قرار نہیں دیا گیا اور عدالت نے سزائیں نہیں سنائیں۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں تحریری درخواست دی اور بتایا کہ انہیں پیش نہ ہونے کا کہا گیا کہ جو بندہ وزیر اعلیٰ/وزیراعظم بننے والا ہے اس کے مقدمہ میں پیش نہ ہو۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بظاہر یہ ٹارگٹڈ ٹرانسفر پوسٹنگ کی گئیں، اس پر تشویش ہے، اس لیے چیف جسٹس نے سو موٹو نوٹس لیا آپ تعاون کریں۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے جواب دیا کہ ایف آئی اے کے پاس ان تبدیلیوں کی کوئی معقول وجہ ہوگی۔

عدالت نے حکم دیا کہ نیب، ایف آئی اے میں افسران کو ہٹانے، ٹرانسفر ، پوسٹنگ ، تحقیقاتی اور پراسیکوشن برانچ میں تبدیلیوں پر جواب دیا جائے، پراسیکوشن برانچز میں کس کو تبدیل کیا اور اس کی جگہ پر کون آیا، گزشتہ چھ ہفتوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ مقدمات کی نامکمل دستاویزات کا ریکارڈ محفوظ بنانے کیلئے اقدامات سے آگاہ کیا جائے، ایف آئی اے اور نیب میں ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ چیک کرنے کے بعد سیل کیا جائے، یہ ریکارڈ چیک کرکے مجاز اتھارٹی کو رپورٹ پیش کریں۔

اسٹیٹ بینک نے ڈالر کو لگام ڈالنے کیلئے نئی پابندی لگا دی

 

اسٹیٹ بینک نے ڈالر کو لگام ڈالنے کیلئے نئی پابندی لگا دی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈالر کی قیمت کوروکنے کیلئے آف شور فارن ایکسچینج ٹریڈنگ ویب سائٹ سے ڈالر ٹریڈنگ پر پابندی لگا دی  ۔ 

ذرائع کے مطابق  اسٹیٹ بینک نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق آف شور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی خدمات لینا ممنوع ہے اور بینکوں کو ہدایات جاری کی گئیں ہیں کہ آف شور ڈیجیٹل پلیٹ فارمزکیلئے خدمات فراہم نہ کریں ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ویب سائٹ ڈالر ٹریڈنگ پر فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی ۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ڈالر کی قیمت کو لگام ڈالنے کیلئے  لگژری اور غیر ضروری اشیاء کی امپورٹ پر پابندی لگادی، درآمد پر عائد پابندی والی اشیاء میں لگژری گاڑیوں سمیت کاسمیٹکس کے سامان اور دیگر غیر ضروری اشیاء شامل ہیں۔

واضح رہےکہ انٹربینک میں ڈالر ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین 199 روپے  کی بلند ترین سطح بھی عبور کرگیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 200 روپے کا ہوگیا ہے،نئی حکومت آنے کے بعد امریکی ڈالر 16.57روپے مہنگا ہوچکا ہے ۔

میں ہرصورت آج سیالکوٹ آؤں گا، عمران خان

میں ہرصورت آج سیالکوٹ آؤں گا، عمران خان

 

چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ سیالکوٹ میں کارکنوں کے ساتھ جو کیا وہ اشتعال انگیز ہے۔


انہوں نے کہا کہ مجرموں کا یہ گروپ ضمانت پر رہا ہے، لندن میں مجرم نے ہمیشہ مخالفین کےخلاف ہتھکنڈےاستعمال کیے، نوازشریف خود کو امیرالمومنین قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں توجمہوریت کا غلط استعمال کرتے ہیں، اقتدار میں ہوتے ہیں تو جمہوری اصولوں کو مکمل تباہ کرتے ہیں، ہم نے ان کے کسی جلسے کو کبھی نہیں روکا کیونکہ ہم جمہوریت کیلئے پرعزم ہیں۔


چیئر مین پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ عوام سے اپیل ہے امپورٹڈ حکومت کے خلاف نکلیں، میں ہرصورت آج سیالکوٹ آؤں گا، امپورٹڈ حکومت نے کارکنوں اور لیڈرشپ کے ساتھ جوکیا قابل قبول نہیں۔

لاہورکے جنرل اسپتال میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گلہڑ کا کیمرے کی مدد سے جلد پر بغیرکٹ لگائے کامیاب آپریشن

 

لاہورکے  جنرل اسپتال میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گلہڑ کا کیمرے کی مدد سے جلد پر بغیرکٹ لگائے کامیاب آپریشن

لاہورجنرل اسپتال کے ہیڈ آف دی سرجری ڈیپارٹمنٹ پروفیسر فاروق افضل کی سربراہی میں ٹیم نے پیچیدہ آپریشن کیا۔

پروفیسر فاروق افضل کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کارسے آپریشن کے دوران گردن پر ٹانکوں کا زخم نہیں ہوتا اورمریض کو کئی روز تک اسپتال میں نہیں رہنا پڑتا۔


اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والی آمنہ شفقت اورحافظ کی رہائشی ناہید کے کامیاب آپریشن کے بعد لاہورجنرل اسپتال جدید طریقے سے آپریشن کرنے والا پاکستان کا پہلا سرکاری اسپتال بن گیا ہے۔



انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت کی جاتی ہے۔عمران خان

 

انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت کی جاتی ہے۔

وزیراعظم نے ٹوئٹر پراپنے پیغام میں کہا ہے کہ خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں ایک بار پھر مستردشدہ ووٹوں کا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ بڑی تعداد میں مستردشدہ ووٹوں کے مسئلے کی وجوہات ڈبل اسٹیمپنگ وغیرہ ہیں۔2013 کے انتخابات پر جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں بھی یہی بات سامنے آئی تھی۔


وزیراعظم نے کہا مخالف ووٹوں کو مسترد کرکے انتخابات کے نتائج میں ہیرا پھیری کی جاتی ہے، یہی وہ وجوہات ہیں کہ اسٹیٹس کو ای وی ایم (الیکٹرانک ووٹنگ مشین) کی مخالفت کرتا ہے۔



چاہے کچھ بھی کرلیں نوازشریف واپس نہیں آئیں گے، چوہدری شجاعت

چاہے کچھ بھی کرلیں نوازشریف واپس نہیں آئیں گے، چوہدری شجاعت


لاہور: 

مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے حکومت کو عوامی مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہے کچھ بھی کرلیں لیکن مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف ملک واپس نہیں آئیں گے اس لیے ان کی واپسی کے معاملے سے باہر نکل جائیں۔

چوہدری شجاعت حسین نے زور دیا کہ عوامی مسائل کو نظرانداز کرکے نواز شریف کی واپسی کے معاملے پر توجہ رہی تو پھر ملک کا اللہ ہی حافظ ہے کیونکہ یہ سال حقیقی معنوں میں کام کرنے کا سال ہے جبکہ جتنے پیسوں کا الزام نواز شریف پر ہے  اس سے کہیں زیادہ  مقدمے بازی پر خرچ کردیے گئے ہیں۔

صدر مسلم لیگ (ق) نے واضح کیا کہ جو خود وزارت عظمیٰ کا امیدوار ہو وہ نواز شریف کو واپسی کا کہے تو یہ مضحکہ خیز بات ہے، کوئی پارٹی یا کسی پارٹی کا لیڈر مہنگائی کے سدباب کے لیے پارلیمنٹ میں منصوبہ پیش کرے تو اپنے ارکان سے ان کی بات سننے کا کہوں گا۔

انہوں نے حکمراں جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کی واپسی کے لیے ضمانت کی بات کرتے ہیں تو یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ زندگی اور موت کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتاکیونکہ اس کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔

مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے کہا کہ ان دنوں لیڈر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں جس کا انجام عنقریب وہ خود دیکھ لیں گے۔


سعید غنی کے ہتک عزت کیس میں حلیم عادل شیخ پر فرد جرم عائد

 



کراچی سٹی کورٹ میں مقامی عدالت نے صوبائی وزیر سعید غنی کی اپوزیشن لیڈر اور سما ٹی وی کیخلاف ہتک عزت کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔ اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

عدالت نے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ پر فرد جرم عائد کردی۔ ملزم کی جانب سے صحت جرم سے انکار کردیا گیا۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہان کو 12 فروری کو طلب کرلیا۔ پیپلز پارٹی کے سعید غنی کی جانب سے ہتک عزت کے مختلف مقدمات درج کئے گئے تھے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی نجی ٹی وی اور حلیم عادل شیخ کے خلاف تین کیسز کئے ہیں۔ عدالت نے متعلقہ ایس ایچ او کو نجی ٹی وی کے حکام کو بھی پیش کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھ پر منشیات فروشوں کی سرپرستی کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔ ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ میں منشیات فروشوں کی سرپرستی کرتا ہوں۔ میرے علم میں بات آئی تو اسپیکر سندھ اسمبلی سے انکوائری کی درخواست کی۔ آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی بنائی۔ جس نے تحقیقات کے بعد رپورٹ میں مجھے کلیئر قرار دیا۔ مجھ پر زمینوں پر قبضے کے الزامات لگائے گئے۔ میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس پر ہتک عزت کے دعوے دائر کئے۔

سماعت کے بعد قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے سٹی کورٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 2 سال تک کنری اور گھوٹکی میں جھوٹے کیسز میں حاضریاں دی ہیں۔ تمام کیسز میں سرخرو ہوا ہوں عدالت نے باعزت بری کیا ہے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پی ایس 88 میں پیپلز پارٹی نے مجھ پر حملہ کروایا اور جھوٹا کیس بھی مجھ پر بنایا گیا۔ ڈیڑھ مہینہ جیل میں رہا، اس میں بھی باعزت بری ہوجاؤں گا۔ 4 کیسز مجھ پر بنائے گئے ہیں۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ منشیات فروشی کا الزام میں نہں لگا رہا بلکہ پولیس رپورٹ ہے کہ منشیات فروشی میں مسٹر کلین شیو اور ان کے رشتہ دار شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ سے سعید غنی کو نکلوایا۔ ابھی تو حمید اللہ کا وڈیو بیان بھی موجود ہے۔ جو بتا رہا ہے کس کے لئے کام کرتا تھا۔

قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ میں ثابت ہوا ہے مسٹر کلین شیو منشیات فروشوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ پر جی آئی ٹی بنائے۔ جس میں تمام ادارے شامل کئے جائیں کہ کون سچا ہے؟ مسٹر کلین شیو سچے ہیں یا ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ درست ہے۔ ہم اس معاملے پر جلد عدالت جائیں گے۔ اے این ایف بھی ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ پر کارروائی کرے۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے این سی او سی کا اجلاس بے نتیجہ ختم

 



 سربراہ این سی او سی اور وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت تعلیمی اداروں، عوامی اجتماعات اور شادی ہالز میں این پی آئیز کے حوالے سے این سی او سی کا خصوصی اور مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور صوبائی وزرائے تعلیم و صحت نے شرکت کی۔ اجلاس میں کورونا کی بڑھتی صورتحال اور اضافے کی صورت میں بندشوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جب کہ ویکسینیشن کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق اور تعلیمی ادارے کھلے رکھنے پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ملک میں کورونا وبا کے بڑھتے ہوئے تناسب کے پیش نظر تعلیمی ادروں کے حوالے سے اہم فیصلوں کا امکان تھا، تاہم آج کا اجلاس بے نتیجہ ہی ختم کردیا گیا۔ اس حوالے سے این سی او سی کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں، تعلیمی سیکٹر کی صورتحال پر بات چیت کے لیے کل تازہ اعداد و شمار کے ساتھ اجلاس دوبارہ ہوگا۔

دوسری جانب این سی او سی نے بڑھتی ہوئی بیماری سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کے لیے صوبوں خصوصاً سندھ حکومت کے ساتھ بڑے پیمانے پر رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کہ آج سے دوران پرواز کھانے کی تقسیم پر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی سنیکس اور کھانا تقسیم کرنے پر پابندی ہوگی۔

ایف آئی اے کا سابق ڈی جی بشیر میمن کے انٹرویوز پر پابندی کے لئے پیمرا سے رابطہ

 



لاہور: 

ایف آئی اے نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر ممین کے ٹی وی انٹرویوز پر پابندی کے لئے پیمرا حکام کو خط لکھ دیا۔

 

ایف آئی اے نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے ٹی وی انٹرویوز پر پابندی کے حوالے سے پیمرا سے رجوع کر لیا ہے، اس حوالے سے ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور ڈاکٹر رضوان نے پیمرا حکام کو خط بھی لکھا ہے۔

ڈاکٹر رضوان کی جانب سے چیرمین پیمرا کو لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ  بشیر میمن منی لانڈرنگ کے بین الاقوامی مقدمات میں مطلوب اشتہاری عمر فاروق کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں، ان کے خلاف مقدمات ایف آئی اے میں زیر تفتیش ہیں، اور معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے۔

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ اور ناروے کو انتہائی مطلوب پاکستانی شہری کے دفترخارجہ اور سابق ڈی جی ایف آئی اے سے رابطوں کا انکشاف ہوا تھا، جب کہ انرجی اور آئی پی پی کے معاہدوں میں فراڈ کرنے والے افراد کی پشت پناہی میں سابق ڈی جی ایف آئی اے اور فارن آفس کے دو افسران سے تفتیش بھی جاری ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق 2019 میں سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عمر فاروق کا نام انٹرپول کی انتہائی مطلوب مجرمان کی فہرست سے نکلوایا تھا، عمر فاروق نامی شخص نے سوئٹزلینڈ میں ایک بینک بنا کر مختلف ممالک کے افراد کو لوٹا تھا۔ عمر فاروق پر سوئٹزرلینڈ اور ناروے میں منی لانڈرنگ کے الزامات تھے، عمر فاروق کا نام جب انٹرپول کی ریڈ لسٹ سے نکلوایا گیا تو اس نے سابق ڈی جی ایف آئی اے کو شکریہ کا خط بھی لکھا تھا۔

حکومت کا برطانیہ کے ساتھ مجرموں کی واپسی کا معاہدہ کرنے کا فیصلہ

 


 وزارت داخلہ میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرمان کی واپسی کے معاہدے سے متعلق وفاقی کابینہ کی تشکیل دی گئی خصوصی وزارتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے خصوصی وزارتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، اور اس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، مشیر برائے داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر، سیکرٹری وزارت قانون اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرمان واپسی معاہدے سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ برطانیہ کے ساتھ مجرمان کی واپسی کے معاہدے کو بہترین عوامی مفاد میں دستخط کیا جائے گا، معاہدے کو وفاقی کابینہ میں لے جانے سے پہلے برطانیہ سے مزید مشاورت کی جائے گی، برطانیہ سے مشاورت کے بعد معاہدے کو وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔
معاہدے سے پاکستان اور برطانیہ اپنے سزا یافتہ مجرمان کو ایک دوسرے کے ممالک واپس بھیج سکیں گے، معاہدے سے صرف ایسے شہریوں کو واپس لانے کی اجازت ہوگی جن کو متعلقہ عدالتیں سزائیں سنا چکی ہیں۔ واضح رہے کہ مجرمان کی واپسی معاہدے سےمتعلق مذاکرات کا پہلا راؤنڈ اکتوبر 2019 میں منعقد ہوا تھا۔