بریکنگ نیوز
latest

468x60

کھیل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کھیل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پاکستانی اسٹارز نے بگ بیش کو الوداع کہہ دیا



کراچی: 

پاکستانی اسٹارز نے بگ بیش کو الوداع کہہ دیا جب کہ پی سی بی کے حکم پر آسٹریلیا سے وطن واپس لوٹنے لگے۔

پاکستان سپر لیگ کا آغاز 27 جنوری سے ہورہا ہے، جس کی وجہ سے پی سی بی نے آسٹریلیا میں بگ بیش لیگ کھیلنے کیلیے موجود اپنے اسٹار پلیئرز کو واپس طلب کرلیا ہے، شاداب خان پہلے ہی واپس لوٹ چکے ہیں جبکہ باقی پلیئرز نے بھی بگ بیش کو الوداع کہہ دیا ہے، ان میں فخر زمان، حارث رؤف، محمد حسنین، احمد دانیال اور سید فریدون بھی شامل ہیں۔

چند پاکستانی سپر اسٹارز کے چلے آنے سے خاص طور پر میلبورن اسٹارز، برسبین ہیٹ اور سڈنی سکسرز کو اپنے اہم کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم ہونا پڑا ہے۔ ان میں سے خاص طور پر برسبین ہیٹ فخر کی دستبرداری کی وجہ سے کافی ناراض دکھائی دیتی ہے جن کی خدمات اس نے 31 دسمبر کو اپنے ایک انجرڈ پلیئر ٹام ایبیل کے متبادل کے طور پر حاصل کی تھیں مگر وہ کوویڈ ایشوز اور سفری پابندیوں کی وجہ سے اس کلب کی جانب سے صرف ایک ہی میچ کھیل پائے۔

برسبین ہیٹ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے تصدیق کردی ہے کہ اس نے فخر کے ہمارے لیے مزید کھیلنے کا اجازت نامہ منسوخ کردیا ہے، ان کے ساتھ بگ بیش میں شریک باقی پاکستانی پلیئرز کو بھی واپس بلالیا ہے تاکہ وہ فوری طور پر وطن لوٹ کر پاکستان سپر لیگ کیلیے تیار ہوسکیں، ہمیں اس بات پر کافی مایوسی ہے کہ فخر ہمارے لیے زیادہ نہیں کھیل سکے، وہ خود بھی کافی مایوس ہیں کہ انھیں ہمارے لیے زیادہ میچز کھیلنے کا موقع نہیں ملا، انھوں نے ہمیں کہا ہے کہ ان کی جانب سے شائقین کا سپورٹ کرنے پر شکریہ ادا کریں، فخر نے باقی 3 میچز کیلیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا ہے۔

حارث رؤف نے ہفتے کے روز ہی سوشل میڈیا پر تصدیق کی تھی کہ وہ میلبورن اسٹارز کو ان کے آخری 2 میچز سے قبل چھوڑ کر جارہے ہیں۔ شاداب خان پہلے ہی سڈنی سکسرز کو چھوڑ کر واپس لوٹ چکے ہیں، وہ سکسرز کی تھنڈر پر فتح کا حصہ نہیں تھے۔

آسٹریلیا سے لوٹنے والے تمام پلیئرز اب اپنی متعلقہ فرنچائزز میں باقی کھلاڑیوں کو جوائن کرکے پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن کی تیاری کریں گے جوکہ 27 جنوری سے شروع ہورہا ہے، پلیئرز اپنی لیگ کے حوالے سے کافی پرجوش اور اس میں عمدہ کارکردگی کیلیے پراعتماد ہیں۔

دوسری جانب بگ بیش ٹیم ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز افغان اسپن اسٹار راشد خان کی خدمات سے بھی محروم ہوگئے ہیں جنھیں قومی ڈیوٹی پر طلب کیا گیا ہے، وہ 21 جنوری سے نیدرلینڈز کے خلاف شروع ہونے والی 3 ون ڈے میچز کی سیریز میں افغانستان کی نمائندگی کریں گے۔

برسبین ہیٹ کو بہرحال مائیکل نیسیر اور مچل سویپسن کی واپسی سے کچھ تقویت ملی ہیجبکہ مچل مارش اور جوش انگلس کو پہلے ہی ٹیسٹ اسکواڈ سے ریلیز کیا جاچکا ہے، وہ بگ بیش ٹیم پرتھ اسکورچرز کو جوائن کرچکے۔


پی ایس ایل سے چند روز قبل پی سی بی کے دس ملازمین کورونا کا شکار

 



لاہور: 

پاکستان سپرلیگ کے آغاز میں چند دن باقی ہیں لیکن اس سے پہلے کورونا وائرس نے ایک بار پھر کرکٹ بورڈ میں انٹری دی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈکوارٹر قذافی اسٹیڈیم میں اب تک مجموعی طورپر دس کوویڈ کیسز پازٹیو کی نشاندہی ہوئی ہے۔ کوویڈ پازٹیو کیسز میں زیادہ تر چھوٹے درجے کا اسٹاف شامل ہے۔

گزشتہ ہفتے چار ملازمین کے کوویڈ پازیٹو رپورٹس پر بورڈ نے تمام اسٹاف کے کوویڈ ٹیسٹ کرائے تھے، سب کیسز کی رپورٹس ملا کرمجموعی طورپر دس افراد ایسےہیں جن کی رپورٹس پازٹیو آچکی ہیں۔

پی سی بی کے ایک عہدیدار نے ایکسپریس نیوز کو کوویڈ کیسز پازٹیو آنےکی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ جن ملازمین کی رپورٹس پازیٹو آئی تھیں، وہ اس وقت اپنے گھروں پر ہی قرنطنیہ کررہےہیں۔ جبکہ دفتر میں بھی کوویڈ پروٹوکولز کو سختی سے عمل کرنے کی ہدایات پہلے سے ہی جاری کی جاچکی ہیں۔

جنوبی افریقی کھلاڑی تبریز شمسی گوادر اسٹیڈیم کے سحر میں مبتلا

 


راولپنڈی (ویب ڈیسک )جنوبی افریقہ کے کھلاڑی تبریز شمسی بھی بلوچستان کے گوادر کرکٹ اسٹیڈیم کے سحر میں مبتلا ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں تبریز شمسی نے کہا کہ کیا ہم پاک جنوبی افریقہ سیریز کا تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ یہاں منتقل نہیں کرسکتے۔ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر گوادر کرکٹ اسٹیڈیم کے چرچے ہورہے ہیں جس کی ایک ویڈیو فخرِ عالم نے بھی شیئر کی تھی۔

ٹوئٹر پر فخرِ عالم کی شیئر کی گئی ویڈیو پر ہی تبریز شمسی نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا۔ جنوبی افریقی کرکٹر نے گوادر کرکٹ اسٹیڈیم کو کیپ ٹاؤن کے نیولینڈز کرکٹ اسٹیڈیم اور بھارت کے دھرم شالہ کرکٹ اسٹیڈیم سے تشبیہ دی۔انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تین میدانوں کے اطراف کی جگہ انھیں بہت بہترین لگیں جن میں نیولینڈز، دھرم شالا اور گوادر شامل ہیں۔